عمران یونس: پنجاب یونیورسٹی میں معمول کی چیکنگ کے دوران پیش آنے والے واقعے پر سکیورٹی گارڈز اور پولیس کے درمیان تنازع شدت اختیار کر گیا۔ واقعے کے بعد پولیس نے 10 یونیورسٹی سکیورٹی گارڈز کو حراست میں لے کر مقدمہ درج کر لیا، جبکہ گارڈز نے وی سی آفس کے باہر احتجاج کیا۔
عوام کیلئے خوشخبری، سولر پینلز، بیٹریاں اور انورٹرز کی قیمتوں میں نمایاں کمی
تفصیلات کے مطابق سکیورٹی گارڈز نے رات گئے یونیورسٹی کیمپس میں ایک لڑکے اور لڑکی کی گاڑی روک کر پوچھ گچھ کی۔ گارڈز کا مؤقف ہے کہ وائرلیس کال پر گاڑی کو روکا گیا کیونکہ یونیورسٹی بند ہونے کے باوجود دونوں کیمپس میں موجود تھے۔
شاہ عالم مارکیٹ میں شیٹ کی دکان میں آتشزدگی، لاکھوں روپے کا سامان جل گیا
گارڈز کے مطابق خاتون نے خود کو ایک سینئر پولیس افسر کی عزیزہ قرار دیا اور فون پر بات کرائی، جس کے کچھ دیر بعد پولیس کی پانچ گاڑیاں موقع پر پہنچیں اور 10 سکیورٹی اہلکاروں کو حراست میں لے لیا۔ بعد ازاں ان کے خلاف مقدمہ بھی درج کر دیا گیا۔
احتجاج کرنے والے گارڈز کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکاروں نے ان پر تشدد کیا، جبکہ انہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ضمانتیں حاصل کیں۔ سکیورٹی اہلکاروں نے یونیورسٹی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے اور پولیس کے مبینہ رویے کے خلاف کارروائی کی جائے۔