چہلم اسلامی تاریخ کا ایک اہم دن ہے جو واقعۂ کربلا کے چالیس دن بعد منایا جاتا ہے۔ یہ دن حضرت امام حسینؑ، ان کے اہلِ بیتؑ اور وفادار ساتھیوں کی عظیم قربانیوں کی یاد تازہ کرتا ہے۔ دنیا بھر میں لاکھوں مسلمان اس موقع پر مجالس، جلوس، دعاؤں اور خیرات کے ذریعے شہدائے کربلا کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔
چہلم، جسے اربعین بھی کہا جاتا ہے، محرم الحرام کی دسویں تاریخ (یومِ عاشورہ) کے چالیس دن بعد یعنی 20 صفر کو منایا جاتا ہے۔ روایت کے مطابق اسی دن حضرت امام حسینؑ کے اہلِ خانہ دوبارہ کربلا پہنچے اور شہداء کی قبور پر حاضری دی۔ یہ دن صبر، استقامت اور حق پر قائم رہنے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
سن 61 ہجری میں میدانِ کربلا میں حضرت امام حسینؑ نے ظلم، جبر اور ناانصافی کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ اگرچہ ان کے ساتھیوں کی تعداد بہت کم تھی، لیکن انہوں نے حق اور انصاف کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ امام حسینؑ اور ان کے جانثار ساتھیوں نے اپنی جانوں کی قربانی دے کر اسلام کی حقیقی تعلیمات کو زندہ رکھا۔
پاکستان، عراق، ایران، بھارت اور دیگر کئی ممالک میں چہلم کے موقع پر خصوصی مجالس، جلوس اور دعائیہ تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔ عراق کے شہر کربلا میں حضرت امام حسینؑ اور حضرت عباسؑ کے روضوں پر لاکھوں زائرین حاضری دیتے ہیں، جسے دنیا کے بڑے مذہبی اجتماعات میں شمار کیا جاتا ہے۔
پاکستان میں چہلم کے موقع پر جلوسوں اور مجالس کے لیے سخت سیکیورٹی انتظامات کیے جاتے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اضافی نفری تعینات کرتے ہیں، جبکہ ٹریفک کے متبادل راستے بھی مقرر کیے جاتے ہیں تاکہ شہریوں کو کم سے کم مشکلات کا سامنا ہو۔
چہلم ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ حق، انصاف، صبر، قربانی اور انسانیت کی حفاظت ہر دور میں اہم اقدار ہیں۔ حضرت امام حسینؑ کی قربانی ہمیں ظلم کے سامنے ڈٹ جانے، سچ کا ساتھ دینے اور اعلیٰ اخلاقی اصولوں پر قائم رہنے کی ترغیب دیتی ہے۔
شہدائے کربلا کی قربانیاں آج بھی پوری انسانیت کے لیے ہدایت، حوصلے اور استقامت کا عظیم پیغام ہیں، اور چہلم کا دن انہی عظیم اقدار کو یاد کرنے اور ان پر عمل کرنے کی دعوت دیتا ہے۔