ایران نے دوحہ میں امریکہ سے مذاکرات کے امکانات کو مسترد کر دیا
دوحہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 جون2026ء) ایران نے دوحہ میں امریکہ سے مذاکرات کے امکانات کو مسترد کر دیا ۔ تصیلات کے مطابق امریکی صدر کی جانب سے دوحہ میں ایران کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے اعلان کیے جانے کےبعد ایران کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے جاری بیان میں کہا ہے کہ امریکی حکام کے دورہِ قطر کا دوحہ کا دورہ کرنے والے ایرانی وفد سے کوئی تعلق نہیں، آنے والے دنوں میں امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔
ایرانی تکنیکی وفد اس ہفتے مفاہمتی یادداشت کے نفاذ پر بات چیت کے لیے قطر کا دورہ کرے گا۔ ایران کی موجودہ ترجیح مفاہمتی یادداشت کے نفاذ کی پیروی کرنا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق حتمی معاہدے کے لیے کوئی مذاکرات شروع نہیں ہوئے،اس کیلئے پہلے مفاہمتی یادداشت کے کچھ نکات پر عمل درآمد ضروری ہے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی کہ امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف اور مشیر جیرڈ کشنر قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ایرانی حکام کے ساتھ اعلیٰ سطح کے مذاکرات میں شرکت کریں گے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ مفاہمتی یادداشت پر جاری بات چیت کے سلسلے میں اعلیٰ سطح کے اجلاسوں میں شرکت کریں گے۔ ان اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے ساتھ ساتھ تکنیکی سطح کے مذاکرات بھی ہوں گے جن میں مختلف امور پر پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔ جبکہ اس سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ایران نے ملاقات کی درخواست کی اور دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات منگل کو دوحا میں ہوں گے۔
امریکی صدر کے اعلان کے فوری بعد ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے امریکی دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ قطر میں امریکی حکام کے ساتھ کسی بھی ملاقات کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ جبکہ اب ایرانی ترجمان وزارت خارجہ نے بھی دوحہ میں امریکا کے ساتھ مذاکرات کی تردید کی ہے۔