کینیڈا کے شہر برامپٹن میں مسجد ابراہیم کا افتتاح ہوگیا
دبئی (طاہر منیر طاہر) کینیڈا کے شہر برامپٹن میں مسلم کمیونٹی کی کئی سالہ محنت، عزم اور اجتماعی جدوجہد کا ثمر اس وقت سامنے آیا جب عظیم الشان مسجد ابراہیم کا باوقار افتتاح عمل میں آیا۔ یہ مسجد نہ صرف ایک عبادت گاہ بلکہ تعلیم، تربیت، سماجی خدمت اور کمیونٹی کی فلاح و بہبود کا ایک ہمہ جہت مرکز بننے جا رہی ہے۔
افتتاحی تقریب میں وفاقی وزیر شفقت علی، برامپٹن کے میئر پیٹرک براؤن، کاروباری، سماجی اور مذہبی شخصیات سمیت خواتین، بچوں اور کمیونٹی کے سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔ تقریب خوشی، شکرگزاری اور فخر کے جذبات سے بھرپور تھی، کیونکہ حاضرین ایک ایسے منصوبے کی تکمیل کا جشن منا رہے تھے جو کئی برسوں کی مسلسل محنت اور قربانیوں کا نتیجہ ہے۔
مسجد ابراہیم تقریباً 2.1 ایکڑ اراضی پر قائم کی گئی ہے جبکہ اس کا مجموعی تعمیراتی رقبہ تقریباً 83 ہزار مربع فٹ ہے۔ پانچ منزلوں پر مشتمل اس عظیم الشان مرکز میں ایک وقت میں 6 ہزار سے زائد نمازیوں کے لیے عبادت کی سہولت موجود ہے۔ منصوبے کا ایک اہم حصہ 600 طالبات کے لیے جدید ہائی اسکول کا قیام بھی ہے تاکہ آنے والی نسلوں کو دینی اور عصری تعلیم کے بہترین مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ منصوبے کی مجموعی لاگت تقریباً 20 ملین ڈالر ہے، جن میں سے 14 ملین ڈالر خرچ ہو چکے ہیں جبکہ باقی ماندہ کاموں کی تکمیل کے لیے مزید 6 ملین ڈالر درکار ہیں۔ اس منصوبے کی تکمیل میں سینکڑوں مخیر حضرات، رضاکاروں اور کمیونٹی کے افراد نے مالی اور عملی تعاون فراہم کیا۔
مسجد ابراہیم کے چیئرمین انور چٹھہ نے اپنے خطاب میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ کسی ایک فرد کا نہیں بلکہ پوری کمیونٹی کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے ان تمام ساتھیوں، کارکنوں اور مخیر حضرات کو خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے تعمیر کے ہر مرحلے میں ان کا ساتھ دیا۔ انہوں نے خاص طور پر عابد بھائی، اشفاق خان، رشید بھائی، حسین بھائی، شہباز الحق، تنویر سلطان، وقاص بھائی، بابا رحیم، راشد بھائی، قمر بھائی، رحیل بیگ، محمد امیر خان، حفیظ رانا، رانا حسین اور دیگر ساتھیوں کی خدمات کو سراہا جنہوں نے دن رات محنت کرکے اس خواب کو حقیقت کا روپ دیا۔
انور چٹھہ نے برامپٹن کے میئر پیٹرک براؤن کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مسجد کے منصوبے کے آغاز سے لے کر تکمیل تک انہوں نے ہر مرحلے پر بھرپور تعاون فراہم کیا۔ تعمیراتی منظوریوں، انتظامی امور اور دیگر سرکاری معاملات میں میئر اور ان کی ٹیم نے جس جذبے سے تعاون کیا، وہ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محمد جاوید چوہدری، ڈائریکٹر سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ لمیٹڈ، نے مسجد ابراہیم کی تعمیر کو کمیونٹی کے اتحاد، ایثار اور دینی وابستگی کی ایک روشن مثال قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ انور چٹھہ اور ان کی ٹیم نے جس خلوص، مستقل مزاجی اور عزم کے ساتھ اس عظیم منصوبے کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا ہے، وہ قابلِ ستائش ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑے منصوبے صرف مالی وسائل سے نہیں بلکہ اخلاص، نیک نیتی اور مسلسل محنت سے مکمل ہوتے ہیں اور مسجد ابراہیم اس کی ایک بہترین مثال ہے۔
محمد جاوید چوہدری نے انور چٹھہ اور ان کے تمام رفقائے کار کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج اس عظیم الشان مسجد کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اگر کمیونٹی متحد ہو جائے تو ناممکن دکھائی دینے والے خواب بھی حقیقت کا روپ دھار لیتے ہیں۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مسجد ابراہیم کو دین اسلام کی خدمت، نئی نسل کی تربیت اور کمیونٹی کی فلاح و بہبود کا ایک مؤثر مرکز بنائے اور اس منصوبے میں حصہ لینے والے تمام افراد کو بہترین اجر عطا فرمائے۔
اپنے خطاب میں میئر پیٹرک براؤن نے کہا کہ وہ ہمیشہ پاکستانی اور مسلم کمیونٹی کے ساتھ کھڑے رہے ہیں اور آئندہ بھی ہر ممکن تعاون جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ برامپٹن کی ترقی اور خوشحالی میں پاکستانی کمیونٹی کا کردار نمایاں اور قابلِ فخر ہے۔ انہوں نے مسجد ابراہیم کو شہر کے لیے ایک اہم اضافہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ نہ صرف عبادت بلکہ تعلیم، سماجی ہم آہنگی اور کمیونٹی کی خدمت کا بھی مرکز بنے گا۔
وفاقی وزیر شفقت علی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مسجد ابراہیم کی تکمیل کو کمیونٹی کے اتحاد اور عزم کی شاندار مثال قرار دیا۔ انہوں نے انور چٹھہ، ان کی ٹیم اور تمام عطیہ دہندگان کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایسے منصوبے اس بات کا ثبوت ہیں کہ جب لوگ ایک نیک مقصد کے لیے متحد ہو جائیں تو بڑے خواب بھی حقیقت بن جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کینیڈا کی ترقی میں پاکستانی اور مسلم کمیونٹی کا کردار نہایت اہم ہے اور انہیں اس کمیونٹی پر فخر ہے۔
تقریب میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات بھی شریک ہوئیں جن میں جاوید چوہدری، میاں نعیم، مرتضیٰ جویا، ندیم شیخ، عاقب بھائی، کاشو بھائی، محمد عاصف، افتخار صاحب، چوہدری احمد شہزاد، طارق ہانس، چوہدری طاہر، افضل صاحب، ارشد ہانس، ملک خالد، شہباز الزمان اور دیگر معززین شامل تھے۔
افتتاحی تقریب میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی جبکہ مہمانوں کے لیے پرتکلف ضیافت کا اہتمام کیا گیا۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ مسجد ابراہیم آنے والے برسوں میں نہ صرف عبادت کا مرکز بنے گی بلکہ تعلیم، تربیت، سماجی خدمت اور بین الثقافتی ہم آہنگی کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔
تقریب کا اختتام ملک و ملت، عالم اسلام، پاکستان اور کینیڈا کی ترقی و خوشحالی کے لیے خصوصی دعاؤں کے ساتھ ہوا۔