ٹیکنالوجی میں چینی پیش رفت نے خلائی دوڑ کا نقشہ بدل دیا
چین کی پہلی خاتون سویلین خلاباز لائی کائی ینگ اس وقت چین کے خلائی اسٹیشن تیان گونگ پر اپنے دو ساتھی خلابازوں کے ساتھ موجود ہیں، جہاں وہ روزانہ زمین کے گرد 16 چکر لگاتی ہیں۔
تیان گونگ ایک جدید مائیکرو گریویٹی تجربہ گاہ ہے، جہاں ایسے سائنسی تجربات کیے جا رہے ہیں جن سے مستقبل میں انسانی خلائی تحقیق کے لیے نئی معلومات حاصل ہونے کی امید ہے۔
ماہرین کے مطابق خلائی تحقیق ایک بار پھر نظریاتی اور جغرافیائی سیاسی مسابقت کا میدان بن چکی ہے، تاہم 20 ویں صدی کی امریکہ اور سوویت یونین کی خلائی دوڑ کے برعکس اب واشنگٹن کا اصل حریف بیجنگ ہے۔
امریکی خلائی ادارے ناسا نے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کو 2032 تک ریٹائر کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس کے بعد چین دنیا کا واحد ملک ہو گا جو مستقل بنیادوں پر اپنے عملے کے ساتھ خلائی اسٹیشن چلا رہا ہو گا۔