افغان۔ٹرانس ریلوے منصوبے میں نمایاں پیش رفت، ازبکستان کا اعلان
ازبک حکام کے مطابق 573 کلومیٹر طویل افغان۔ٹرانس ریلوے ازبکستان کے شہر ترمذ کو افغانستان کے مزارشریف اور لوگر کے راستے پاکستان کے شہر خارلاچی سے منسلک کرے گی۔ یہ منصوبہ خطے میں ازبکستان کے ٹرانزٹ کردار کو مضبوط بنانے کے لیے بڑے نقل و حمل منصوبوں کے نفاذ کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔
باختر نیوز ایجنسی کے مطابق 6 ماہ قبل کابل میں افغانستان، ازبکستان اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کا پہلا سہ فریقی اجلاس منعقد ہوا تھا، جس کے دوران بین الحکومتی فریم ورک معاہدے پر دستخط کیے گئے۔ اس معاہدے کے تحت افغان۔ٹرانس ریلوے منصوبے کی فزیبلٹی اسٹڈی کے لیے عملی بنیاد فراہم کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق افغانستان کی سرپرست حکومت نے معیشت کو مرکز بنا کر علاقائی تجارتی و ٹرانزٹ روابط کے فروغ کی پالیسی اپنائی ہے، جس کے باعث خطے کے ممالک کو باہمی ہم آہنگی اور رابطہ منصوبوں کی جانب راغب کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل عرصے کے بعد سیاسی و سلامتی کے عدم استحکام سے نکل کر استحکام کی راہ پر گامزن افغانستان اس منصوبے کے ذریعے علاقائی تجارت کا اہم مرکز بن سکتا ہے۔ منصوبے پر عمل درآمد سے نہ صرف افغانستان کے معاشی ڈھانچے کی جدید کاری ہوگی بلکہ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، چند مخصوص منڈیوں پر انحصار کم ہوگا اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ اقتصادی باہمی انحصار بڑھنے سے سیاسی و معاشی استحکام کو تقویت ملے گی۔
یہ منصوبہ افغانستان کو شمال اور جنوب ایشیا کے درمیان ایک اسٹریٹجک راہداری کی حیثیت دلانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے کی معاشی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔