علی خامنہ ای شہید کی نمازِ جنازہ میں ’’پراسرار نقاب پوش‘‘ کی شناخت ہو گئی! کیا مجتبی خامنہ ای تھے؟
تہران (13 جولائی 2026): ایران کے سابق سپریم لیڈر شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کے نماز جنازہ میں پراسرار نقاب پوش کی شناخت ہو گئی۔
28 فروری کو امریکا اور اسرائیلی حملے میں شہید سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ساڑھے چار ماہ بعد مشہد میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ اس سے قبل ان کی نماز جنازہ تین شہروں میں مختلف مقامات پر ادا کی گئی اور پانچ روز تک سوگ کی تقریبات بھی جاری رہیں۔
نماز جنازہ میں ایک نقاب پوش شخص کو دیکھا گیا، جس کو لاکھوں کے مجمع میں دیکھ کر نہ صرف ایران بلکہ دنیا بھر میں قیاس آرائیوں نے جنم لیا۔
اس کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر اکثریت نے خیال بھی ظاہر کیا کہ نقاب پوش شخص ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای ہیں۔
تاہم تمام قیاس آرائیوں کا خاتمہ اس وقت ہو گیا جب سرکاری سطح پر اس نقاب پوش کی شناخت ظاہر کر دی گئی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ میں نظر آنے والا پراسرار شخص کوئی اور نہیں بلکہ شہید کا پوتا محمد جواد خامنہ ای تھے، ان کے بڑے صاحبزادے مصطفیٰ خامنہ ای کے بیٹے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق محمد جواد خامنہ ای کے نماز جنازہ میں نقاب پہن کر شرکت کرنے کی وجہ یہ تھی کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیلی حملے جس میں علی خامنہ ای اور ان کے خاندان کے کچھ لوگ بھی شہید ہوئے تھے۔ اس حملے میں محمد جواد خانہ ای بھی شدید زخمی ہوئے تھے۔
اس حملے میں جواد خامنہ ای کے چہرے پر گہرے زخم اور جھلسنے کے نشانات آئے تھے، انہی زخموں کے باعث انہوں نے نمازِ جنازہ میں اپنے چہرے کو سیاہ ماسک سے ڈھانپ رکھا تھا۔
رپورٹس کے مطابق حملے کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت سے متعلق بھی مختلف دعوے سامنے آئے، بتایا گیا کہ وہ حملے کے وقت اسی رہائش گاہ میں موجود تھے تاہم دوسرے کمرے میں ہونے کی وجہ سے بچ گئے، البتہ ان کی ٹانگوں، ہاتھ اور بازو پر چوٹیں آئیں اور انہیں اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ 28 فروری کے حملے کے بعد سے مجتبیٰ خامنہ ای عوامی سطح پر سامنے نہیں آئے اور نہ ہی انہوں نے کوئی خطاب کیا، جبکہ یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ ایرانی فوجی قیادت اور اعلیٰ مذہبی شخصیات سے ہاتھ سے لکھے گئے پیغامات کے ذریعے رابطے میں ہیں۔