بلوچستان میں پانچ پنجابی مزدوروں کی ٹارگٹ کِلنگ
فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے بلوچستان کے ضلع واشک کے علاقے ماشکیل میں دکان پر کام کرنے والے پانچ پنجابی مزدوروں کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنا کر گذشتہ روز بے دردی سے قتل کر دیا۔ اسی طرح بونیر میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کا ایک سب انسپکٹر شہید ہو گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بلوچستان میں دہشت گردی کے ان افسوسناک واقعات کی مذمت کرتے ہوئے باور کرایا ہے کہ ایسے مذموم واقعات دہشت گردی کے خاتمہ کے لیئے ہمارے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے۔
یہ امر واقع ہے کہ دہشت گرد عناصر پاکستان کے امن، قومی یکجہتی اور ریاستی رِٹ کو نقصان پہنچانے کے لیے مسلسل سرگرم ہیں۔ نہتے مزدوروں کو صرف ان کی شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنانا انسانیت، مذہب اور تمام اخلاقی اقدار کے منافی ہے جس کا مقصد خوف و ہراس پھیلانا اور مختلف صوبوں کے عوام کے مابین نفرت پیدا کرنا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اسی تناظر میں باور کرایا ہے کہ دہشت گردی کے یہ حملے اس ناسور کے خاتمے کے قومی عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔ یہ امر واقع ہے کہ پاکستان نے گزشتہ دو دہائیوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے شمار جانوں کی قربانی دی ہے اور اس کے نتیجے میں دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ گئی تاہم دہشت گرد گروہ اب بھی بھارت اور افغان طالبان رجیم کی سرپرستی، مالی معاونت اور سرحد پار محفوظ پناہ گاہوں سے فائدہ اٹھا کر اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
دہشت گرد تنظیمیں درحقیقت بھارتی پراکسیز کا کردار ادا کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف سرگرم ہیں جنہیں افغان سرزمین میسر آنے کی وجہ سے اپنی کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور عملدرآمد میں سہولت حاصل ہوتی ہے۔ اگر ہمسایہ ملک کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہوتی رہے گی تو خطے میں پائیدار امن کا خواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔ اس تناظر میں عبوری افغان حکومت پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی سرزمین کسی بھی ملک بالخصوص پاکستان، کے خلاف استعمال نہ ہونے دے اور دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثر اقدامات اٹھائے۔
بے شک پاکستان کی سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے دوسرے ادارے بشمول انٹیلی جنس ادارے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے شب و روز مصروفِ عمل ہیں اور بلوچستان میں جاری اپریشن شعبان اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔ ان اداروں کے افسروں اور جوانوں کی قربانیاں پوری قوم کا سرمایہ ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو مزید مربوط، مؤثر اور فیصلہ کن بنایا جائے، سرحدی نگرانی کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے اور دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے خلاف بھی بلاامتیاز کارروائی کی جائے جس کے لیئے قوم کا سکیورٹی فورسز کے ساتھ ہم آہنگ ہونا ضروری ہے۔
بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات اس امر کے متقاضی ہیں کہ قومی سطح پر اتحاد، سیاسی ہم آہنگی اور ریاستی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کو فروغ دیا جائے۔ دہشت گردی کسی ایک صوبے یا قومیت کا نہیں بلکہ پورے ملک کا مسئلہ ہے۔ پنجابی مزدور ہوں، بلوچ شہری ہوں، پشتون اہلکار ہوں یا کسی بھی علاقے کے باشندے۔ دہشت گردوں کی گولی ہر پاکستانی کے دل میں اترتی ہے۔
اس تناظر میں یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ امن صرف بیانات سے نہیں بلکہ مسلسل، جامع اور بے لاگ اقدامات سے قائم ہوتا ہے۔ ریاست کو دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کے خلاف ہر سطح پر مؤثر حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ پاکستان کی سلامتی، عوام کے جان و مال کا تحفظ اور ریاست کی رِٹ ہر قیمت پر یقینی بنائی جا سکے۔ دہشت گردی کے مکمل قلع قمع سے ہی ملک میں پائیدار امن، استحکام اور قومی ترقی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔