’پہلے دھماکہ ہوا، پھر شدید فائرنگ:‘ کراچی میں رینجرز کیمپ پر حملے میں تین سکیورٹی اہلکار ہلاک، تین حملہ آور بھی مارے گئے
پاکستانی فوج نے تصدیق کی ہے کہ سنیچر کی شب کراچی میں پاکستان رینجرز سندھ کے ایک کیمپ پر ہونے والے حملے میں تین سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں جبکہ جوابی کارروائی میں تین حملہ آور بھی مارے گئے ہیں۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران ایک حملہ آور کو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا ہے، جو ایک افغان شہری ہے۔
واضح رہے کہ سنیچر کی شب کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں رینجرز کے دفتر کے قریب دھماکے اور فائرنگ کی آوازیں سنی گئی تھیں، جس کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا تھا۔
یہ واقعہ گلستان جوہر کے بلاک فائیو میں واقع سچل رینجرز کی عمارت کے قریب پیش آیا۔ عینی شاہدین نے بی بی سی کو بتایا کہ ابتدائی طور پر ایک دھماکے کی آواز سنائی دی جس کے بعد فائرنگ شروع ہو گئی۔
رینجرز کا یہ کیمپ گلستان جوہر بلاک فائیو میں واقع ہے۔ اس کے بالکل سامنے محکمہ موسمیات کا دفتر اور تھوڑے فاصلے پر چمن اقبال کالونی نامی ایک آبادی واقع ہے، جبکہ اس کے قریب کئی رہائشی اپارٹمنٹس بھی واقع ہیں۔
شدت پسند گروہ جماعت الاحرار سے منسلک ایک گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
فوج کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’حملہ آوروں نے کیمپ کے مرکزی گیٹ پر دھماکے کے بعد حفاظتی حصار توڑنے کی کوشش کی، تاہم ان کے مذموم عزائم کو رینجرز کے دستوں کے چوکس اور پرعزم جواب سے ناکام بنا دیا گیا۔‘
آئی ایس پی آر کے مطابق اس دوران تین حملہ آوروں کو ہلاک اور ایک کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا ہے، جو اس کے مطابق ایک افغان شہری ہے۔