فیٹف، پاکستان اور عالمی اعتماد کی نئی جہتیں
مالیاتی شفافیت، منی لانڈرنگ کی روک تھام اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے انسداد کے حوالے سے دنیا کا اہم بین الاقوامی ادارہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) ہے۔ اس ادارے کا قیام 1989ء میں عمل میں آیا جبکہ اس کا مرکزی سیکریٹریٹ پیرس، فرانس میں قائم ہے۔ فیٹف کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ دنیا کے ممالک اپنے مالیاتی نظام کو شفاف، محفوظ اور بین الاقوامی معیارات سے ہم آہنگ بنائیں تاکہ غیر قانونی مالی سرگرمیوں کی مؤثر روک تھام ممکن ہو سکے۔فیٹف خود کسی ملک پر براہِ راست پابندیاں عائد نہیں کرتا بلکہ سفارشات مرتب کرتا ہے، مختلف ممالک کے مالیاتی نظام کا جائزہ لیتا ہے اور ان کی کارکردگی کی بنیاد پر اپنی رپورٹس جاری کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک اس ادارے کی سفارشات کو نہایت اہمیت دیتے ہیں پاکستان کا فیٹف کے ساتھ تعلق کئی برسوں پر محیط ہے۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کیا گیا، جس کے باعث ملکی معیشت، غیر ملکی سرمایہ کاری اور بین الاقوامی ساکھ پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔ تاہم بعد ازاں پارلیمنٹ، ریاستی اداروں، مالیاتی اداروں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور متعلقہ وزارتوں نے مشترکہ کوششوں کے ذریعے متعدد قانونی اور انتظامی اصلاحات نافذ کیں۔ ان اقدامات کے نتیجے میں پاکستان نے فیٹف کے ایکشن پلان کے تقاضے پورے کیے اور بالآخر گرے لسٹ سے باہر آنے میں کامیاب ہوا، جسے سفارتی اور معاشی اعتبار سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا آج بھی پاکستان مالیاتی نظم و ضبط، بینکاری نظام کی مضبوطی اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کے لیے اپنی اصلاحاتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ عالمی برادری کی توقع ہے کہ پاکستان ان اصلاحات کا تسلسل برقرار رکھتے ہوئے بین الاقوامی معیارات پر مؤثر عمل درآمد جاری رکھے گا۔
قومی سلامتی، داخلی استحکام اور علاقائی امن کے حوالے سے ریاستی اداروں، حکومت اور مسلح افواج کا کردار ہمیشہ اہم رہا ہے۔ حکومتِ پاکستان سفارتی سطح پر علاقائی امن، اقتصادی تعاون اور بین الاقوامی روابط کو فروغ دینے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ سکیورٹی ادارے دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔ ان تمام کوششوں کا مقصد پاکستان کو ایک ذمہ دار، مستحکم اور باوقار ریاست کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کرنا ہے۔ پیرس کے دورے کے دوران چند متعلقہ افراد سے غیر رسمی گفتگو کا موقع ملا۔ ان گفتگوؤں سے مجھے یہ تاثر ملا کہ گزشتہ برسوں میں پاکستان کی مالیاتی اصلاحات اور ذمہ داریوں کی ادائیگی کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ یہ مشاہدات میری ذاتی ملاقاتوں اور تاثرات پر مبنی ہیں، انہیں فیٹف یا کسی سرکاری ادارے کا باضابطہ مؤقف نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ کسی بھی ملک کا عالمی وقار صرف بیانات سے نہیں بلکہ مستقل اصلاحات، قانون کی حکمرانی، مالیاتی شفافیت، مؤثر سفارت کاری، امن و استحکام اور جمہوری اداروں کی مضبوطی سے بلند ہوتا ہے۔ اگر پاکستان اسی سمت میں اپنی پیش رفت جاری رکھتا ہے تو نہ صرف عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد مزید مستحکم ہوگا بلکہ ملکی معیشت، سرمایہ کاری اور بین الاقوامی ساکھ بھی مزید بہتر ہوگی پیرس میں قیام کے دوران مختلف حلقوں سے گفتگو میں یہ احساس بھی سامنے آیا کہ پاکستان کو ایک باصلاحیت، باوقار اور مشکلات کا سامنا کرنے والی ریاست کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جو انسانی حقوق، امن اور علاقائی استحکام کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تاہم عالمی سطح پر کسی بھی ملک کی مثبت شناخت اسی وقت مزید مضبوط ہوتی ہے جب داخلی استحکام، قانون کی پاسداری اور قومی یکجہتی کو فروغ دیا جائے۔آزاد کشمیر سمیت ملک کے مختلف حصوں میں عوام کو احتجاج کا آئینی اور جمہوری حق حاصل ہے، تاہم اس حق کے استعمال کے ساتھ یہ ذمہ داری بھی وابستہ ہے کہ احتجاج پُرامن رہے، عوام کی روزمرہ زندگی متاثر نہ ہو، سرکاری و نجی املاک کو نقصان نہ پہنچے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تصادم سے گریز کیا جائے۔ جہاں اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، وہیں مسائل کے حل کے لیے مذاکرات، برداشت اور آئینی راستہ اختیار کرنا قومی مفاد میں زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔اگر کسی احتجاج کے نتیجے میں کاروباری سرگرمیاں معطل ہوں، تعلیمی ادارے بند ہوں، آمدورفت متاثر ہو یا عوام کو مالی نقصان پہنچے تو اس کے اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔ اسی طرح اگر کسی بھی فریق کی جانب سے تشدد، اسلحے کا استعمال یا قانون ہاتھ میں لینے کی کوشش کی جائے تو اس سے نہ صرف ریاستی رٹ متاثر ہوتی ہے بلکہ پاکستان کا بین الاقوامی تشخص بھی نقصان اٹھا سکتا ہے۔ ایسے معاملات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات اور قانون کے مطابق کارروائی ریاست کی ذمہ داری ہے۔آج پاکستان معاشی استحکام، سرمایہ کاری کے فروغ اور بین الاقوامی اعتماد کی بحالی کے ایک اہم مرحلے سے گزر رہا ہے۔ ایسے وقت میں قومی اتحاد، سیاسی برداشت، آئین و قانون کی پاسداری اور ریاستی اداروں کے ساتھ تعمیری تعاون ہی وہ راستہ ہے جو ملک کو ترقی، خوشحالی اور عالمی وقار کی جانب لے جا سکتا ہے۔ اختلافات کا حل تصادم میں نہیں بلکہ مکالمے، برداشت اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے تلاش کیا جانا چاہیے۔پاکستان ایک باصلاحیت، ذمہ دار اور باوقار ملک ہے۔ قومی اداروں، حکومت، سول سوسائٹی اور عوام کی مشترکہ کوششوں سے یہ ملک عالمی برادری میں اپنا مثبت کردار مزید مؤثر انداز میں ادا کر سکتا ہے۔ امید ہے کہ آنے والے برسوں میں پاکستان شفافیت، امن، ترقی، قانون کی حکمرانی اور بین الاقوامی تعاون کے میدان میں مزید کامیابیاں حاصل کرے گا اور دنیا میں اپنا مقام مزید مضبوط بنائے گا۔