صوبہ پنجاب کے شہر لاہور میں ایک ٹیوشن سینٹر کی چھت گِرنے سے 14 بچوں کی ہلاکت کے بعد اس علاقے کی ایک رہائشی نے بتایا کہ ’ہمارے محلے میں قدم قدم پر جنازے پڑے ہیں۔ سمجھ نہیں آ رہی کہ پہلے کہاں جائیں۔‘
جب ہم لاہور کے اس علاقے کاہنہ پہنچے تو جگہ جگہ لوگ جمع تھے۔ کئی گھروں سے رونے کی آوازیں آ رہی تھیں۔
میں نے آگے بڑھ کر دیکھا تو ہر ہجوم کے درمیان ایک بچے کی میت پڑی تھی۔ ابھی میں پہلی میت کے پاس ہی رُکی تو سامنے سے ایک اور جنازہ آتا دکھائی دیا۔ 20 قدم کے فاصلے پر عورتیں دو بچوں کی میت کو ایک ہی پلنگ پر رکھے بیٹھی تھیں۔
وہاں موجود خواتین سے بات کی تو انھوں نے بتایا کہ یہ ایک ہی گھر کے دو بچے ہیں۔ ایک کی عمر سات سال ہے اور دوسرے کی پانچ سال۔ ان کی ماں روتے ہوئے کہہ رہی تھی ’صدقے جاؤں۔۔۔ ہائے۔۔۔ ماں کے بچے۔۔۔ میں نے تو پڑھنے بھیجا تھا۔‘
خیال رہے کہ پولیس نے اس واقعے کا مقدمہ درج کر کے عمارت کے مالک سمیت تین افراد کو حراست میں لیا ہے اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ریسکیو 1122 کے ترجمان فاروق احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں اس واقعے کی اطلاع منگل کی شام پونے پانچ بجے موصول ہوئی جس کے بعد ایک گھنٹے کے اندر ریسکیو کارروائی مکمل کر لی گئی تھی۔
حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ عمارت میں 30 سے زیادہ بچے موجود تھے اور ریسکیو آپریشن میں 20 بچوں کو بحفاظت نکالا گیا۔ ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں ایک خاتون استاد اور پانچ بچے زخمی بھی ہوئے جنھیں علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
اس واقعے کا مقدمہ انفورسمنٹ انسپکٹر نشتر زون کاشف اسلم کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے جس میں غفلت اور لاپرواہی کو سانحے کی بنیادی وجہ قرار دیا گیا۔