پاکستانی سفیر ثقلین سیدہ سے میونخ کے معروف صحافی سعود بن نعمان کی ملاقات
برلن (ڈیلی پاکستان آن لائن) جرمنی میں پاکستان کی سفیر محترمہ ثقلین سیدہ اور میونخ سے تعلق رکھنے والے معروف صحافی اور کمیونٹی رہنما سعود بن نعمان کے درمیان پاکستانی سفارت خانہ برلن میں ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں پاکستانی کمیونٹی کے مسائل اور مختلف شعبوں میں کمیونٹی کی بہتری کے لیے سفارت خانے کی کوششوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
گفتگو کے دوران سفیر پاکستان نے انفرادی نوعیت کے بعض معاملات کا ذکر کیا جن پر سفارت خانہ کام کر رہا ہے۔ ان میں وہ افسوسناک واقعہ بھی شامل تھا جس میں ایک پاکستانی طالب علم برلن سے تقریباً 50 کلومیٹر شمال میں واقع جھیل ویربیلن زے (Werbellinsee) میں ڈوب گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ سفارت خانہ سوگوار خاندان اور جرمن حکام سے مسلسل رابطے میں ہے، میت کی بازیابی کے لیے ہر ممکن کوشش جاری ہے اور امید ہے کہ جلد کامیابی ہو گی۔
سعود بن نعمان نے تجویز پیش کی کہ بڑی جرمن کمپنیوں میں کام کرنے والے پاکستانی پیشہ ور افراد کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جائے تاکہ ان کا تجربہ اور رہنمائی جرمنی میں کیریئر بنانے کے خواہش مند دیگر پاکستانیوں کے کام آ سکے۔ اتفاق کیا گیا کہ اس سلسلے میں جلد عملی اقدامات کیے جائیں گے جن کی تفصیلات بعد میں سامنے آئیں گی۔
ملاقات میں مسئلہ کشمیر بھی زیر بحث آیا۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ ماضی میں کشمیر پر پاکستان کا مؤقف یورپی یونین کی سطح پر مؤثر انداز میں پیش نہیں ہو سکا، جس سے پیدا ہونے والے خلاء کو پاکستان مخالف پروپیگنڈا پُر کر دیتا ہے۔ اتفاق کیا گیا کہ یورپی ممالک میں قائم پاکستانی مشنز کو یہ مسئلہ یورپی فورمز بشمول یورپی کونسل میں مؤثر انداز میں اٹھانے کے لیے سنجیدہ کوششیں کرنی چاہئیں۔
سفیر پاکستان نے اپنے دورِ تعیناتی میں منعقدہ ثقافتی تقریبات کا بھی ذکر کیا جنہوں نے پاکستانی اور جرمن عوام کو قریب کیا۔ دورِ تعیناتی کے اختتام کے موقع پر انہوں نے پاکستانی کمیونٹی کی مسلسل حمایت پر شکریہ ادا کیا اور نئے تعینات ہونے والے سفیر کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
علاوہ ازیں سعود بن نعمان نے سفارت خانے کے نو تعینات پریس قونصلر ڈاکٹر سہیل آفتاب سے بھی ملاقات کی اور انہیں نئی ذمہ داریوں پر مبارکباد دی۔
یہ ملاقات جرمنی میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کی فلاح، سفارت خانے سے اس کے تعلق کی مضبوطی اور بیرونِ ملک پاکستانیوں کے مسائل کو ہر سطح پر اجاگر کرنے کی کوششوں کا حصہ تھی۔