بلوچستان کے ضلع شیرانی میں ایک بس حادثے میں کم از کم 32 افراد ہلاک اور آٹھ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔
حکام کے مطابق حادثہ جمعے کی صبح کوئٹہ سے تقریباً 400 کلومیٹر دور بلوچستان کے ضلع شیرانی کے پہاڑی علاقے دہانہ سر میں پیش آیا جہاں کوئٹہ سے پشاور جانے والی ایک مسافر بس ڈرائیور سے بے قابو ہوکر گہری کھائی میں جا گری۔
ڈپٹی کمشنر شیرانی حضرت علی کاکڑ نے اردونیوز سے بات کرتے ہوئے گفتگو تصدیق کی کہ حادثے میں 32 افراد ہلاک اور 17 زخمی ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ تمام زخمیوں کو ریسکیو کرلیا گیا اور انہیں ژوب منتقل کیا جارہا ہے۔
جائے وقوعہ پر موجود ریسکیو 1122 مانی خواہ شیرانی کے انچارج ثنا اللہ نے اردونیوز سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ بس 70فٹ سے زیادہ گہری کھائی میں گری جس کے نتیجے میں اس کا ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔ کئی مسافر اس تباہ شدہ بس کے ڈھانچے کے اندر بری طرح پھنس گئے تھے جنہیں نکالنے کے لیے ریسکیو اہلکاروں کو مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے بتایا کہ ہم نے سب سے پہلے زخمیوں کو نکالا تاکہ ان کی جان بچائی جا سکے اور انہیں ابتدائی طبی امداد کے بعد مزید علاج کے لیے ژوب روانہ کردیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ قریب ترین بڑا سرکاری ہسپتال ژوب میں واقع ہے جو جائے وقوعہ سے 70 سے 80 کلومیٹر دور ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حادثے کی جگہ سے اب تک 32 لاشیں نکال لی گئی ہیں جبکہ باقی تین لاشیں نکالنے کا کام جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مرنے والوں میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔
بس کمپنی کے مطابق کوئٹہ سے روانگی کے وقت بس میں 49 مسافر سوار تھے۔ ڈپٹی کمشنر شیرانی نے بتایا کہ راستے میں ایک دوسری بس خراب ہونے پر ڈرائیور نے اس کے مسافروں کو بھی اسی بس میں منتقل کر دیا گیا جس کے باعث مسافروں کی تعداد بڑھ گئی تھی اور زیادہ جانی نقصان ہوا۔
حادثے جس علاقے میں پیش آیا وہ پہاڑی اور غیرآباد ہے ۔ حکام کے مطابق قریب سے گزرنے والی ایک پک اپ گاڑی کے ڈرائیور نے قریبی سکیورٹی چوکی پر آکر حادثے کی اطلاع دی جس کے بعد ریسکیو کا کام شروع کیا گیا۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی شیرانی، ژوب اور خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان سے امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ اسسٹنٹ کمشنر ژوب نوید عالم کے مطابق ضلع کے سول ہسپتال اور ٹراما سینٹر میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی جبکہ ژوب سے 20 ایمبولینسیں بھی جائے وقوعہ روانہ کی گئیں۔
ریسکیو 1122 ڈیرہ اسماعیل خان کے کنٹرول روم کے مطابق بلوچستان حکومت کی درخواست پر خیبر پختونخوا حکومت نے بھی امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا اور ڈیرہ اسماعیل خان سے دو ریسکیو ٹیمیں چھ ایمبولینسوں کے ساتھ روانہ کی گئیں۔
ایرانی ڈیزل پکڑے جانے پر ’ڈرائیور نے جان بوجھ کر بس کھائی میں گرائی‘
علاقے میں تعینات ایک سرکاری افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اردو نیوز کو بتایا کہ جائے حادثہ سے کچھ فاصلے پر ایک سکیورٹی چوکی قائم ہے جہاں صوبے سے باہر جانے والی گاڑیوں اور بسوں کی چیکنگ کی جاتی ہے۔
ان کے مطابق حادثے کا شکار بس کو بھی اسی چوکی پر کافی دیر تک روکا گیا ۔ بس میں اضافی ایرانی ڈیزل موجود تھا جسے سکیورٹی اہلکاروں نے اتار لیاتھا۔ان کے بقول ممکن ہے کہ اس تاخیر کے بعد ڈرائیور نے رفتار تیز کر دی ہو۔
حادثے میں زخمی ہونے والے عینی شاہد مسافر حسین احمد نے الزام عائد کیا ہے کہ بس ڈرائیور نے جان بوجھ کر گاڑی کھائی میں گرائی تاہم اس دعوے کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔
سول ہسپتال ژوب ٹراما سینٹر میں زیر علاج حسین احمد نے صحافیوں کو بتایا کہ راستے میں بس خراب ہونے پر وہ ایک اور مسافر کے ساتھ پشاور جانے والی اس بس میں سوار ہوئے تھے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ سفر کے دوران بس میں موجود مسافروں اور ڈرائیور کے درمیان تلخ کلامی ہو رہی تھی۔
حسین احمد کے مطابق ڈرائیور مسافروں سے کہہ رہا تھا کہ ’تمہاری وجہ سے میرا ڈیزل (پکڑا گیا) ضائع ہوا۔‘
انہوں نے الزام لگایا کہ بحث کے دوران ڈرائیور نے غصے میں آ کر سٹیئرنگ موڑا جس کے نتیجے میں بس گہری کھائی میں جا گری۔ زخمی کے بقول ان کا خیال ہے کہ ڈرائیور بھی اس حادثے میں زندہ نہیں بچا۔
تاہم سرکاری طور پر حکام نے اب تک اس دعوے کی تصدیق نہیں کی اور بتایا کہ حادثے کی تمام پہلوؤں پر تحقیقات جاری ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ امکان ہے کہ مسافروں کے ساتھ مبینہ بحث و تکرار کے دوران ڈرائیور کی توجہ سڑک سے ہٹ گئی ہو جس کے باعث حادثہ پیش آیا۔
سیکریٹری ٹرانسپورٹ بلوچستان محمد حیات کاکڑ نے ڈرائیور کے مبینہ کردار اور بس میں ایرانی ڈیزل کی موجودگی سے متعلق الزامات کا نوٹس لیتے ہوئے سیکریٹری صوبائی ٹرانسپورٹ اتھارٹی کو فوری تحقیقات کی ہدایت کی ہے۔
محمد حیات کاکڑ نے اردو نیوز کو بتایا کہ تحقیقات میں ڈرائیور کے مبینہ کردار، ایرانی ڈیزل کی موجودگی اور دیگر تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر الزامات ثابت ہوئے تو بس کمپنی، مالکان اور دیگر ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
پولیس کے مطابق حادثے میں ڈرائیور بھی جان کی بازی ہار گیا جس کی شناخت لورالائی کے رہائشی مراد عرف بابو استاد کے نام سے ہوئی ہے۔
خطرناک موڑ، دشوار گزار پہاڑی راستہ اور بد قسمتی
حادثہ بلوچستان کے ضلع شیرانی اور خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کی سرحد کے قریب جس مقام پر پیش آیا ہے وہاں سڑک کوہِ سلیمان کے دشوار گزار پہاڑی سلسلے کے درمیان ایک ندی کے کنارے سے گزرتی ہے۔ تیز رفتاری اور معمولی غلطی اس پہاڑی راستے پر جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔
خطرناک موڑوں کے باعث ماضی میں بھی یہاں متعدد جان لیوا حادثات پیش آچکے ہیں۔
ستمبر 2025 میں اس علاقے ایک ٹرک کھائی میں گرنے سے 11 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
چار سال قبل 2022 میں آج کے ہی دن اسی مقام کے قریب ایک مسافر بس گہری کھائی میں گرنے سے کم از کم 20 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
بلوچستان میں ٹریفک حادثات اور ان میں ہونے والی اموات کی شرح ملک کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں زیادہ سمجھی جاتی ہے۔ ماہرین اس کی بنیادی وجوہات میں خستہ حال اور سنگل شاہراہیں، دشوار گزار راستے، تیز رفتاری اور ٹریفک قوانین پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونا قرار دیتے ہیں۔
بلوچستان میڈیکل ایمرجنسی رسپانس سینٹر (مرک 1122) کے مطابق صرف 2025 کے دوران صوبے کی نو بڑی شاہراہوں پر 25 ہزار 400 سے زائد ٹریفک حادثات پیش آئے جن میں 430 افراد ہلاک جبکہ 33 ہزار 972 زخمی ہوئے۔