چہلم حضرت امام حسینؓ (متوقع تاریخ): ملک بھر میں تیاریاں عروج پر، سیکیورٹی اور ٹریفک پلان کو حتمی شکل دینے کا عمل جاری
حضرت امام حسینؓ اور شہدائے کربلا کے چہلم کے موقع پر ملک بھر میں مجالس اور جلوسوں کے انعقاد کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔ اگرچہ چہلم کی حتمی تاریخ چاند کی رویت سے مشروط ہے، تاہم انتظامیہ نے متوقع تاریخ کے پیشِ نظر سیکیورٹی، ٹریفک اور دیگر انتظامی اقدامات کو حتمی شکل دینا شروع کر دی ہے۔
صوبائی اور ضلعی انتظامیہ، پولیس، رینجرز، ریسکیو اداروں اور دیگر متعلقہ محکموں کے درمیان رابطے کا عمل تیز کر دیا گیا ہے تاکہ عزاداروں کو پرامن اور محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔ حساس مقامات پر اضافی نفری تعینات کرنے، سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے نگرانی بڑھانے اور داخلی و خارجی راستوں پر چیکنگ کے مؤثر انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
متوقع جلوسوں کے روٹس پر صفائی، اسٹریٹ لائٹس کی بحالی، طبی امداد کے مراکز، ایمبولینس سروس اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی سمیت دیگر سہولیات کی فراہمی کے لیے بھی متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ شہریوں کی سہولت کے لیے خصوصی ٹریفک پلان بھی مرتب کیا جا رہا ہے، جس کے تحت بعض شاہراہوں پر ٹریفک کی آمدورفت عارضی طور پر محدود یا متبادل راستوں کی طرف منتقل کی جا سکتی ہے۔
انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ جلوسوں اور مجالس کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مکمل تعاون کریں، غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور ٹریفک پولیس کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں۔ کسی بھی مشکوک سرگرمی یا لاوارث سامان کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ اداروں کو دینے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
علمائے کرام اور منتظمینِ مجالس نے بھی عزاداروں سے نظم و ضبط، باہمی احترام اور اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ مذہبی رسومات پرامن ماحول میں ادا کی جا سکیں۔
نوٹ: چہلم کی حتمی تاریخ اسلامی مہینے صفر المظفر کے چاند کی رویت کے بعد سرکاری طور پر اعلان کی جائے گی، اس لیے اس خبر میں درج تاریخ متوقع تصور کی جائے۔