امریکا اور ایران کا ایک دوسرے پر حملے روکنے اور امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق
امریکا اور ایران کے درمیان ایک دوسرے پر حملے روکنے اور آبنائے ہرمز کے تنازع کو حل کرنے کے لیے امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق ہو گیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق، اتوار کے روز ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ دونوں ملکوں نے حالیہ حملوں کو روکنے اور مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے 17 جون کو ہونے والے چودہ نکاتی امن معاہدے کے بچنے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔
امریکی عہدیدار نے کہا کہ ”اس امن معاہدے کے تمام نکات پر تکنیکی بات چیت جاری رہے گی، فی الحال دونوں فریقین اپنے اپنے حملے روک رہے ہیں اور اب سمندر میں تجارتی جہاز بغیر کسی ڈر کے آزادانہ طور پر آ جا سکتے ہیں۔“
امریکی میڈیا کے مطابق یہ اہم مذاکرات منگل کے دن سے قطر میں دوبارہ شروع ہوں گے۔
اس سے پہلے صورتِ حال انتہائی خراب ہو چکی تھی اور دونوں ملکوں نے ایک دوسرے پر جنگ بندی توڑنے کے سنگین الزامات لگائے تھے۔
اتوار کی صبح ایران نے کویت اور بحرین میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ کیا تھا۔ یہ کارروائی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے کچھ ہی دیر بعد کی گئی تھی جس میں انہوں نے سوشل میڈیا پر ایران کو کھلی دھمکی دی تھی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ”ایک وقت ایسا آ سکتا ہے جب ہم مزید نرمی نہ دکھا سکیں اور ہمیں اس کام کو فوجی طاقت سے مکمل کرنا پڑے گا جو ہم نے کامیابی سے شروع کیا تھا۔“
انہوں نے مزید دھمکی دی تھی کہ اگر ایسا ہوا تو ایران کا نام و نشان مٹ جائے گا۔
امریکی صدر کا یہ بیان ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے بجائے دوسرے راستے سے نکلنے کی کوشش کرنے والے دو بحری جہازوں پر ڈرون حملوں کے بعد سامنے آیا تھا۔ ان ڈرون حملوں کے جواب میں امریکا نے ایران کے کئی شہروں پر بمباری کی تھی۔